Friday, 8 January 2021

عشق کرنے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں

 عشق کرنے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں

جاگتی آنکھوں کے کچھ خواب ہوا کرتے ہیں

ہر کوئی رو کر دِکھا دے یہ ضروری تو نہیں

خشک آنکھوں میں بھی سیلاب ہوا کرتے ہیں

کچھ فسانے ہیں جو چہرے پہ لکھے رہتے ہیں

کچھ پس دیدۂ خواب ہوا کرتے ہیں

کچھ تو جینے کی تمنا میں مَرے جاتے ہیں

اور کچھ مرنے کو بے تاب ہوا کرتے ہیں

تیرنے والوں پے موقوف نہیں ہے خالد

ڈوبنے والے بھی پایاب ہوا کرتے ہیں


خالد رشید

No comments:

Post a Comment