موسم کا مزاج بدل رہا ہے
خوشنما بادل چھٹ گئے ہیں
خنک ہوائیں زہریلی ہو گئی ہیں
گلِ لالہ کے رنگ
ہولناک لگ رہے ہیں
موسموں کی اس سازش میں
سب تلاطم پہنے بہ رہے ہیں
تصادم کے پانیوں میں
پانیوں کا مزاج کس کے دسترس میں ہے
کس سے پوچھیں کدھر کو جائیں؟
درد کی اس وادی میں
ہمدردی کا کہیں کوئی خیمہ نظر نہیں آتا
جگہ جگہ سیاسی اکھاڑے لگے ہوئے ہیں
نس نس میں بیگانگی جم رہی ہے
ذرہ ذرہ مسمار تڑپ رہا ہے
لمحہ لمحہ کرفیو میں تپ رہا ہے
شبنم عشائی
No comments:
Post a Comment