Sunday, 3 January 2021

دل سے اک یاد بھلا دی گئی ہے

 دل سے اک یاد بھلا دی گئی ہے

کسی غفلت کی سزا دی گئی ہے

عیب دیوار کے ہوں گے ظاہر

میری تصویر ہٹا دی گئی ہے

میں نے منزل کی دعا مانگی تھی

میری رفتار بڑھا دی گئی ہے

اب یہاں سے نہیں جا سکتا کوئی

اب یہاں شمع جلا دی گئی ہے

میں نے اک دل پہ حکومت چاہی

مجھے تلوار تھما دی گئی ہے

اب محبت کا سبب وحشت ہے

ورنہ حسرت تو مٹا دی گئی ہے

مجھ میں اب پھول نہیں کھل سکتے

میری اب خاک اڑا دی گئی ہے

اس لیے جم کے یہاں بیٹھا ہوں

مجھ کو میری ہی جگہ دی گئی ہے


ندیم بھابھہ

No comments:

Post a Comment