دل سے اک یاد بھلا دی گئی ہے
کسی غفلت کی سزا دی گئی ہے
عیب دیوار کے ہوں گے ظاہر
میری تصویر ہٹا دی گئی ہے
میں نے منزل کی دعا مانگی تھی
میری رفتار بڑھا دی گئی ہے
اب یہاں سے نہیں جا سکتا کوئی
اب یہاں شمع جلا دی گئی ہے
میں نے اک دل پہ حکومت چاہی
مجھے تلوار تھما دی گئی ہے
اب محبت کا سبب وحشت ہے
ورنہ حسرت تو مٹا دی گئی ہے
مجھ میں اب پھول نہیں کھل سکتے
میری اب خاک اڑا دی گئی ہے
اس لیے جم کے یہاں بیٹھا ہوں
مجھ کو میری ہی جگہ دی گئی ہے
ندیم بھابھہ
No comments:
Post a Comment