کبھی تو مہر، کبھی ماہتاب ہونا تھا
تجھی سے پیار مجھے بے حساب ہونا تھا
تِرے ہی ساتھ گزرنی تھی زندگی میری
مہک تجھے، مجھے تازہ گلاب ہونا تھا
ہر ایک صبح تِرے نام سے طلوع ہو کر
ہر ایک رات مجھے تیرا خواب ہونا تھا
جو ہوتی سوہنی، گھڑے کے سہارے آ جاتی
یہ جان کر بھی کہ نذرِ چناب ہونا تھا
مجھی سے ہو کے شروع مجھ پہ ختم ہو جاتی
تِرے سوال میں میرا جواب ہونا تھا
ہر ایک سانس تِری قرضدار ہونی تھی
دھڑکتا دل یہ تجھے انتساب ہونا تھا
ہر ایک بار تجھے چاہنا تھا جانِ سحر
ہر ایک بار تِرا انتخاب ہونا تھا
نادیہ سحر
No comments:
Post a Comment