پورا کرنا تھا کسی شخص سے وعدہ تھا کوئی
ورنہ اس شہر میں رکنے کا ارادہ تھا کوئی
واقعہ ہم پہ نہ کھلتا تو یہی ہم کہتے
کوئی فرضی سی کہانی تھی یہ قصہ تھا کوئی
کچھ تعلق نہ تھا پر اپنے قریب آنے میں
مشترک درد کے احساس کا رشتہ تھا کوئی
اپنی تنہائی کا گوشہ جسے ہم سمجھے تھے
وہ تو صحرا کو نکلتا ہوا رستہ تھا کوئی
وہ جسے وقت نے منظر سے ہٹا ڈالا ہے
وہ مِری روح مِرے جسم کا حصہ تھا کوئی
اس کو ملنے سے رہی خود میں گریزاں ورنہ
فاصلہ بیچ کا ایسا بھی زیادہ تھا کوئی
یاسمین سحر
No comments:
Post a Comment