Sunday, 10 January 2021

نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے

مکمل غزل


نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے

پسینہ پونچھیے اپنی جبیں سے

ٹپکتا ہے پسینہ اس جبیں سے

ستارے جھڑتے ہیں ماہ مبیں سے

چلی آتی ہے ہونٹوں پر شکایت

ندامت ٹپکی پڑتی ہے جبیں سے

میں اس برہم مزاجی کے تصدق

الجھتے ہیں وہ زلف عنبریں سے

 بسرکرتا رہا ہوں زندگانی

تا تیغ اس نگاہ شرمگیں سے

یہ کس نقش قدم پر جبہ سا ہوں

کہ سر اٹھتا نہیں اپنا زمیں سے

تمہیں ہم خواب دشمن دیکھتا ہوں

اٹھا پردہ یہ چاک آستیں سے

جہاں مدفون ہیں تیرے کشتہ ناز

یقیں ہے حشر اٹھے گا وہیں سے

نہیں کوئے عدو میں نقش پا تک

مگر وہ اڑ کے چلتے ہیں زمیں سے

جنوں میں اس غضب کی خاک اڑائی

بنایا آسماں ہم نے زمیں سے

گریباں گیر ہے یہاں شوق مردن

وہ خنجر تو نکالیں آستیں سے

کہاں کی دل لگی کیسی محبت

مجھے اک لاگ ہے جان حزیں سے

دو رنگی ایک جا ان سے نہ چھوٹی

مجھے مارا ادائے مہر و کیں سے

الٹ دے گا جہاں بسمل تڑپ کر

سنبھالو دست و پائے نازنیں سے

بجائے شمع جلتے ہیں سراپا

تمہاری بزم روشن ہے ہمیں سے

غضب ہی بے جگر تھا بسمل شوق

کہ جا لپٹا ترے فتراک زیں سے

وہ کچھ بے تابیاں بگڑے سے تیور

لڑائی میں مزا ہے اس حسیں سے

ادھر مارا ادھر مجھ کو جلایا

لب جاں بخش و چشم خشمگیں سے

نہ نکلی اس کے منہ سے آہ تک بھی

جسے مارا نگاہ شرمگیں سے

نہ دل قابو میں اور دل میں نہ اب صبر

کھینچیں کس بل پہ ہم اس خشمگیں سے

اٹھانے ایک قیامت بیٹھے ہیں وہ

غضب فتنے لگا لائے کمیں سے

کمی کی دست قاتل نے تو بسمل

بڑھائے دست و پائے نازنیں سے

ادھر لاؤ ذرا دست حنائی

پکڑ دیں چور دل کا ہم یہیں سے

اگر سچ ہے حسینوں میں تلوں

تو ہے امید وصل ان کی نہیں سے

برنگ بو نکلتے ہیں کرشمے

تمہاری نرگس سحر آفریں سے

جہنم ہے مجھے گلزار جنت

جدا ہوں ایک ازار آتشیں سے

یہ پردے ہیں با شوق دیدار

یہ ساری لن ترانی ہے ہمیں سے

جہاں کو جلوہ گاہ یار دیکھیں

جو نظارہ کریں چشم یقیں سے

مجھے کیا غم کہ بار الفت غیر

نہ اٹھے گا کبھی اس نازنیں سے

سنانیں چل رہی ہیں جان و دل پر

نگاہیں لڑ رہی ہیں اک حسیں سے

وہاں عاشق کشی ہے عین ایماں

انہیں کیا بحث انور کفر و دیں سے


انور دہلوی

No comments:

Post a Comment