Sunday, 10 January 2021

دل نہ کرو یوں برا وقت گزر جائے گا

 دل نہ کرو یوں برا وقت گزر جائے گا

وقت گزرتا رہا،۔ وقت گزر جائے گا

کل بھی رہے گا تپاک کل بھی اڑے گی یہ خاک

رقص کرے گی ہوا، وقت گزر جائے گا

کوئی نوا، ہم نوا ہو گی نہ گوش آشنا

بے جرس و بے صدا وقت گزر جائے گا

وقت کے بارے میں لوگ سوچتے رہ جائیں گے

گرم دم و تیز پا وقت گزر جائے گا

جس کا ہے یوں اضطراب ہو گا وہ دن بھی خراب

کچھ بھی نہ ہو گا پتا وقت گزر جائے گا

خواب بکھر جائیں گے یاد ٹھیر جائے گی

اور پسِ التوا وقت گزر جائے گا

عمرِ رواں قافلہ مڑ کے نہیں دیکھتا

آنکھ لگے گی ذرا وقت گزر جائے گا

گردشِ لیل و نہار کرتی ہے کب انتظار

اے مِرے صبر آزما وقت گزر جائے گا

وقت کہیں جستجو وقت کہیں آرزو

وقت مگر بے وفا وقت گزر جائے گا

یوں جو رہو گے نصیر خلوتی و گوشہ گیر

سوچ لو یہ آشنا وقت گزر جائے گا


نصیر ترابی


نصیر ترابی قضائے الہٰی سے انتقال فرما گئے ہیں، انا للہ و انا الیہ راجعون۔

No comments:

Post a Comment