Tuesday, 5 January 2021

فنا کے تیر ہوا کے پروں میں رکھے ہیں

 فنا کے تیر ہوا کے پروں میں رکھے ہیں

کہ ہم گھروں کی جگہ مقبروں میں رکھے ہیں

ہمارے پاؤں سے لپٹا ہے خواہشوں کا سفر

ہمارے سر ہیں کہ بس خنجروں میں رکھے ہیں

ہمارے عہد کا انجام دیکھئے کیا ہو؟

ہم آئینے ہیں مگر پتھروں میں رکھے ہیں

اے زندگی! نہ گزرنا ہماری گلیوں سے

ابھی ہمارے جنازے گھروں میں رکھے ہیں

جواز کیا دیں؟ عدالت کو بے گناہی کا

ہمارے فیصلے دانشوروں میں رکھے ہیں

ہمارے سر پہ حقائق کی دھوپ ہے نسرین

حسین خواب تو بس چادروں میں رکھے ہیں


نسرین نقاش

No comments:

Post a Comment