فنا کے تیر ہوا کے پروں میں رکھے ہیں
کہ ہم گھروں کی جگہ مقبروں میں رکھے ہیں
ہمارے پاؤں سے لپٹا ہے خواہشوں کا سفر
ہمارے سر ہیں کہ بس خنجروں میں رکھے ہیں
ہمارے عہد کا انجام دیکھئے کیا ہو؟
ہم آئینے ہیں مگر پتھروں میں رکھے ہیں
اے زندگی! نہ گزرنا ہماری گلیوں سے
ابھی ہمارے جنازے گھروں میں رکھے ہیں
جواز کیا دیں؟ عدالت کو بے گناہی کا
ہمارے فیصلے دانشوروں میں رکھے ہیں
ہمارے سر پہ حقائق کی دھوپ ہے نسرین
حسین خواب تو بس چادروں میں رکھے ہیں
نسرین نقاش
No comments:
Post a Comment