Tuesday, 5 January 2021

عذاب جھیل رہا ہے ہر بشر کیسے

عذاب جھیل رہا ہے ہر بشر کیسے؟

سماعتوں کا یہ گریہ ہو مختصر کیسے

یہ کس کے ہاتھ نے مسمار کر دیا ہمیں

سوال گونج رہے ہیں شجر شجر کیسے

چہار سمت دھویں کی ہے اک لکیر کھنچی

ہو ان کی قید سے آزاد کوئی سر کیسے

یہ ڈھونڈھتے ہو تم کسے لہو کی جھیلوں میں

پکارتے ہیں تمہیں دیکھ چشم تر کیسے

اچھالتے ہیں مری سمت تپتی ریت سبھی

یہ ریگزار ہے میں کہ دوں کاشمر کیسے


پروین راجہ

No comments:

Post a Comment