عارفانہ کلام نعتیہ کلام
کس نے ذروں کو اٹھایا اور صحرا کر دیا
کس نے قطروں کو ملایا اور دریا کر دیا
کس کی حکمت نے کیا یتیموں کو دُرِ یتیم
اور غلاموں کو زمانے بھر کا مولیٰ کر دیا
زندہ ہو جاتے ہیں جو مر جاتے ہیں حق کے نام پر
اللہ، اللہ، موت کو کس نے مسیحا کر دیا
شو کتِ مغرور کا کس شخص نے توڑا طلسم
منہدم کس نے الٰہی قیصر و کسریٰ کر دیا
سات پردوں میں چھپا بیٹھا تھا حسنِ کائنات
اب کسی نے اس کو عالم میں آشکارا کر دیا
آدمیت کا غرض سامان مہیا کر دیا
اک عرب نے آدمی کا بول بالا کر دیا
اختر ہوشیار پوری
No comments:
Post a Comment