Friday, 19 March 2021

کس نے ذروں کو اٹھایا اور صحرا کر دیا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


کس نے ذروں کو اٹھایا اور صحرا کر دیا

کس نے قطروں کو ملایا اور دریا کر دیا

کس کی حکمت نے کیا یتیموں کو دُرِ یتیم

اور غلاموں کو زمانے بھر کا مولیٰ کر دیا

زندہ ہو جاتے ہیں جو مر جاتے ہیں حق کے نام پر

اللہ، اللہ، موت کو کس نے مسیحا کر دیا

شو کتِ مغرور کا کس شخص نے توڑا طلسم

منہدم کس نے الٰہی قیصر و کسریٰ کر دیا

سات پردوں میں چھپا بیٹھا تھا حسنِ کائنات

اب کسی نے اس کو عالم میں آشکارا کر دیا

آدمیت کا غرض سامان مہیا کر دیا

اک عرب نے آدمی کا بول بالا کر دیا


اختر ہوشیار پوری

No comments:

Post a Comment