جلے تنور، پھر اس پر الاؤ رقص کریں
ہمارے دل پہ محبت کے گھاؤ رقص کریں
ہوئی ہے جب سے محبت تو مجھ کو ایسا لگے
ہوائیں کہتی ہیں مجھ سے کہ؛ آؤ رقص کریں
زمانہ دیکھ نہ لے اور ہم پہ حرف آئے
گراؤ پردہ، یہ شمعیں بجھاؤ، رقص کریں
نوید ہم کو زمانے نے تنہا چھوڑ دیا
بھلا ہم ایسے میں کیسے بتاؤ رقص کریں
نوید ستاری
No comments:
Post a Comment