محسوس کیا دستِ صبا کو نہیں دیکھا
دیکھا بھی خدا کو تو خدا کو نہیں دیکھا
کچھ لوگ تو یوں دیکھ کے حیران ہوئے ہیں
جیسے کبھی اربابِ وفا کو نہیں دیکھا
کیا سَیر کوئی ہو گا؟ ہم کہہ نہیں سکتے
دُنیا کو بہت دیکھا،۔ پر اِتنا نہیں دیکھا
آلام سے گھبرائیں گے کیا ہم، کیا ہم نے
چشمہ کبھی پتھر سے نکلتا نہیں دیکھا
دنیا میں سے گزرے ہیں کہ جیسے نہیں گزرے
اپنوں میں تو شامل تھے، تماشہ نہیں دیکھا
ضمیر جعفری
No comments:
Post a Comment