Monday, 22 March 2021

کبھی آنسو کبھی خوابوں کے دھارے ٹوٹ جاتے ہیں

 کبھی آنسو کبھی خوابوں کے دھارے ٹوٹ جاتے ہیں 

ذرا سی آنکھ میں کیا کیا نظارے ٹوٹ جاتے ہیں 

ہوا بھی آج کل رکھتی ہے تیور پتھروں جیسے 

یہاں تو سوچ سے پہلے اشارہ ٹوٹ جاتے ہیں 

ہمیں تنہائیوں میں یوں صدائیں کون دیتا ہے 

سمندر کانپ اٹھتا ہے کنارے ٹوٹ جاتے ہیں 

پس دیوار چھپ جاتے ہیں جو طوفان سے ڈر کر 

انہیں کی زندگی میں سب سہارے ٹوٹ جاتے ہیں 

جبیں پر کون سی تحریر لکھی ہے خدا جانے 

ہمارے پاس آ کر کیوں ستارہ ٹوٹ جاتے ہیں 


دنیش ٹھاکر

No comments:

Post a Comment