اک آس لگی رہتی ہے ناکارہ نظر سے
کچھ روزنِ دیوار سے کچھ پردۂ در سے
افلاک کی چشمک سے ستاروں کے اثر سے
اللہ بچائے تمہیں دشمن کی نظر سے
پردے ہی کے پیچھے سے سہی دور سے لیکن
اتنا تو ہو مل جائے نظر ان کی نظر سے
گِرتی ہے تخیل پہ مِرے برقِ نشیمن
جب یاد ستاتی ہے اک اُجڑے ہوئے گھر کی
شرقی امروہوی
No comments:
Post a Comment