جتنا کچھ بھی ہے ہمارے لبِ اظہار کے پاس
لطف مشکل ہی سے پاؤ گے یہ دو چار کے پاس
ہم کہ آدابِ جنوں سے بھی تھے واقف، لیکن
کیوں کھڑے رہ گئے اس شوخ کی دیوار کے پاس
وہ بھی محتاجِ سکوں ہے اسے کیا عرض کروں
کیا ہے جُز حرفِ تسلی مِرے غمخوار کے پاس
مان لیتے ہیں کہ دیوارِ قفس سخت سہی
سر تو تھا پھوڑنے کو مرغِ گرفتار کے پاس
تھے کبھی برگ و ثمر پوششِ گُلشن ماجد
پیرہن گَرد کا اب رہ گیا اشجار کے پاس
ماجد صدیقی
No comments:
Post a Comment