Wednesday, 10 March 2021

خود سے باہر بھی مجھے اپنا پتہ کرنا ہے

 خود سے باہر بھی مجھے اپنا پتہ کرنا ہے

میں نے اب سوچ لیا سب سے ملا کرنا ہے

مجھ کو جانے دے مِری پہلی محبت کی طرف

میں نے اک شخص کو وعدے سے رہا کرنا ہے

جی بہت خوش ہے کہ آج اس سے ملاقات ہوئی

کل کو جس کے لیے افسردہ ہُوا کرنا ہے

اتنا بے تاب نہ ہو مجھ سے بچھڑنے کے لیے

تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے

مجھ سے کُھل پائیں اگر اپنی زباں کی گرہیں

خود سے ملنا ہے کبھی، اپنا گلہ کرنا ہے


انجم سلیمی

No comments:

Post a Comment