خود سے باہر بھی مجھے اپنا پتہ کرنا ہے
میں نے اب سوچ لیا سب سے ملا کرنا ہے
مجھ کو جانے دے مِری پہلی محبت کی طرف
میں نے اک شخص کو وعدے سے رہا کرنا ہے
جی بہت خوش ہے کہ آج اس سے ملاقات ہوئی
کل کو جس کے لیے افسردہ ہُوا کرنا ہے
اتنا بے تاب نہ ہو مجھ سے بچھڑنے کے لیے
تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے
مجھ سے کُھل پائیں اگر اپنی زباں کی گرہیں
خود سے ملنا ہے کبھی، اپنا گلہ کرنا ہے
انجم سلیمی
No comments:
Post a Comment