Friday, 18 June 2021

اگر سفر میں مرے ساتھ میرا یار چلے

 اگر سفر میں مرے ساتھ میرا یار چلے

طواف کرتا ہوا موسم بہار چلے

لگا کے وقت کو ٹھوکر جو خاکسار چلے

یقیں کے قافلے ہمراہ بے شمار چلے

نوازنا ہے تو پھر اس طرح نواز مجھے

کہ میرے بعد مِرا ذکر بار بار چلے

یہ جسم کیا ہے کوئی پیرہن ادھار کا ہے

یہیں سنبھال کے پہنا یہیں اتار چلے

یہ جگنوؤں سے بھرا آسماں جہاں تک ہے

وہاں تلک تِری نظروں کا اقتدار چلے

یہی تو ایک تمنا ہے اس مسافر کی

جو تم نہیں تو سفر میں تمہارا پیار چلے


آلوک شریواستو

No comments:

Post a Comment