Friday, 11 June 2021

آنسوؤں کا نمک گلے میں گھل رہا ہے

مری جاں

آنسوؤں کا نمک

گلے میں گھل رہا ہے

سانس میں بھر دے

موتیے کی مہک

کوئی بات تو کر


ثانیہ شیخ

No comments:

Post a Comment