Friday, 11 June 2021

شہر صحرا ہے گھر بیاباں ہے

 شہر صحرا ہے گھر بیاباں ہے

دل کسی انجمن کا خواہاں ہے

مجھ سے کہتی ہیں وہ اداس آنکھیں

زندگی بھر کی سب تھکن یاں ہے

خواب ٹوٹے پڑے ہیں سب میرے

میں ہوں اور حیرتوں کا ساماں ہے

ہر مسرت گندھی ہوئی دکھ میں

ارضِ اضداد دشت امکاں ہے

تو سمندر کی بے کناری دیکھ

اس میں معیار ظرف پنہاں ہے

مر کے پہنچا تو ہوں لبِ دریا

خالی اب تشنگی کا داماں ہے

سب نے شاہد چنے پسند کے پھول

گل کدہ پھر بھی گل بہ داماں ہے


صدیق شاہد

No comments:

Post a Comment