Tuesday, 15 June 2021

چہرہ ہے کنول جیسا خصلت ہے غزل جیسی

 چہرہ ہے کنول جیسا، خصلت ہے غزل جیسی

وہ حُسن مروّت میں، ممتاز محل جیسی

نُدرت میں، لطافت میں، اصغر کی غزل جیسی

گفتار میں شیرینی، ہے صبر کے پھل جیسی

ممکن ہی نہیں اس کے اوصاف بیاں کرنا

وہ شام ابد جیسی، وہ صبح ازل جسی

ہیں اس کے بھی سینے میں، مدفون تمنائیں

یوں اس کو سمجھتا ہوں، میں تاج محل جیسی

پابند تو کرتی ہے، آزار نہیں دیتی

زنجیر نہیں کوئی اس زُلف کے بل جیسی


نعیم حامد 

No comments:

Post a Comment