تڑپتی ماؤں، بلکتے بچوں، ٹھٹھرتے بوڑھوں کا کیا کروں گا
میں اب معیشت کی جنگ ہارا تو بھوکے لوگوں کا کیا کروں گا
میں آنے والی اداس نسلوں کے مرثیے خوب لکھ رہا ہوں
مگر اداسی کا حل نہ ڈھونڈھا تو اپنے بچوں کا کیا کروں گا
تُو یار مخلص ہے، صاف گو ہے، مِرے برے کو برا کہے گا
میں چاپلوسوں کے ہاتھ میں ہوں تِری وفاؤں کا کیا کروں گا
تمہیں بھلا میں نے کیا کہا تھا، مگر یہ کیا ہانک کر لے آئے
میں سرخ گھوڑوں کا ایک تاجر بیمار خچروں کا کیا کروں گا
وہ جس کو سولہ برس بھی پڑھ کر میں روزی روٹی کا ہو نہ پایا
جنابِ والا نصاب بدلو، میں ان کتابوں کا کیا کروں گا
اگر کڑا امتحان ہو تو ہیں ضبط اچھوں کے ٹوٹ جاتے
جو تم یہاں لڑکھڑا گئے تو میں دل کے کچوں کا کیا کروں گا
یہ سوچ رکھا تھا یار عمران تم بھنور سے نکال دو گے
مگر یہ کیا آپ کر رہے ہو میں ٹوٹے خوابوں کا کیا کروں گا
علی عمران
No comments:
Post a Comment