Saturday, 3 July 2021

اس بار اس نے اپنے مقدر کو داد دی

 اِس بار اُس نے اپنے مقدر کو داد دی 

جب عشق نے بُلا کے قلندر کو داد دی

پہلے تو سب خدا سے مدد مانگتے رہے

دریا رُکا تو لوگوں نے پتھر کو داد دی 

مجھ کو مِرے وجود کا باطن بچا گیا 

باہر نے ہنس کے پھر مِرے اندر کو داد دی

مُنصف مزاج شخص تھا سو مُنصفی بھی کی

کم تر کو حوصلہ دیا، بہتر کو داد دی

قاتل کو ڈھونڈ کر تو سپاہی نے جان دی

خبروں کی سُرخیوں نے سب افسر کو داد دی

یہ کس کے ہاتھ سے اسے خیرات مل گئی

سِکے نے آج دستِ گداگر کو داد دی


مصور عباس

No comments:

Post a Comment