Saturday, 3 July 2021

اب کے حسن نظر کتابوں پر

 اب کے حُسن نظر کتابوں پر

چند سطریں ہیں پر کتابوں پر

لفظ بن کے وہ اشک مہکے صبح

جو گِرے رات بھر کتابوں پر

میں سہولت سے کاٹ آئی ہوں

زندگی کا سفر کتابوں پر

روح لفظوں سے پھُونکتے ہو تم 

اک غزل چارہ گر کتابوں پر 

تیرے وعدوں پر اعتبار آیا 

اس سے بھی پیشتر کتابوں پر 

کوئی کاندھا کہاں میسر تھا؟ 

رکھ دیا میں نے سر کتابوں پر 


فاطمہ نوشین

No comments:

Post a Comment