Thursday, 12 August 2021

جمال یار تو ہے اور میں ہوں

 جمالِ یار تو ہے اور میں ہوں

کمالِ آرزو ہے اور میں ہوں

مِری تنہائی بزم آرائی سی ہے

وہ میرے چار سُو ہے اور میں ہوں

نہیں جُنبش لبوں کو چاہ کر بھی

مقامِ گفتگو ہے اور میں ہوں

مِری خاموشیاں بھی چیختی ہیں

صدائے ہا و ہو ہے اور میں ہوں

نہ پوچھو حاصلِ صحرا نوردی

قبائے بے رفو ہے اور میں ہوں

عذابِ تشنہ کامی اوج پر ہے

تلاشِ آب جو ہے اور میں ہوں

تعاقب میں ہیں جھگڑے دو جہاں كے

مِرے پیچھے عدو ہے اور میں ہوں

بہرصورت یہیں جینا ہے، اے دل

جہانِ تند خو ہے اور میں ہوں

سخاوت تیری اے ساقی! کہاں ہے

مِرا خالی سبو ہے اور میں ہوں

جیالوں کا یہی تمغہ ہے عابد

چُھری زیبِ گلو ہے اور میں ہوں


عرفان عابد

No comments:

Post a Comment