گیت
برکھا رُت آئی
گھنگھور گھٹا ہر سُو لہرائے
بجلی چمکے نیند چرائے
مینہا برسے دیس نہائے
بادل لے انگڑائی
برکھا رُت آئی
چُنری کو چھیڑے مست ہوا
زلفوں کے پیچھے چاند چھپا
میں بھی پہروں بے حال رہا
ناری شرمائی
برکھا رُت آئی
گُل بوٹوں نے رُوپ نکالا
دھرتی کا ہے رنگ نرالا
امبر نے پھر گیت اُچھالا
باجے شہنائی
برکھا رُت آئی
خاور چودھری
No comments:
Post a Comment