Friday, 13 August 2021

بچھڑتے دامنوں میں اپنی کچھ پرچھائیاں رکھ دو

 بچھڑتے دامنوں میں اپنی کچھ پرچھائیاں رکھ دو

سکوتِ زندگی میں دل کی کچھ بے تابیاں رکھ دو

کہیں ایسا نہ ہو میں دور خود اپنے سے ہو جاؤں

میری ہستی کے ہنگاموں میں کچھ تنہائیاں رکھ دو

مِرے افکار ہو جائیں نہ فرسودہ زمانے میں

نگاہوں سے تم اپنے ان میں کچھ گہرائیاں رکھ دو

مِرا ہر اضطرابِ دل نشاں منزل کا بن جائے

تمناؤں میں میری حسن کی انگڑائیاں رکھ دو

رہے باقی نہ پھر سود و زیاں کا مسئلہ کوئی

مِرے خِرمن میں اپنے ہاتھ سے چنگاریاں رکھ دو

کسی کو بخش دو عزت کسی کو سیم و زر دے دو

مِرے حصے میں راہِ عشق کی رسوائیاں رکھ دو

کسی بھی غیر کی جانب نظر اٹھے فراز اب کیوں

نگاہوں میں تم اس کی اپنی سب رعنائیاں رکھ دو


فراز سلطانپوری

No comments:

Post a Comment