اپنا ادراک ہو گئی ہوں میں
خوگرِ خاک ہو گئی ہوں میں
اس نے جنت جو رکھ دی قدموں میں
مثل افلاک ہو گئی ہوں میں
سچ بھی کہنے سے اب نہیں ڈرتی
کتنی بے باک ہو گئی ہوں میں
زخم اس کے چھپائے پھرتی ہوں
اس کی پوشاک ہو گئی ہوں میں
اس کی صدیوں رفو گری کرکے
خود ہی صد چاک ہو گئی ہوں میں
نزہت عباسی
No comments:
Post a Comment