امیرِ شہر کی مسند پہ اس کے بام پہ تُھو
وہ جس مقام سے گزرے ہر اس مقام پہ تھو
لکھوں گا تھوک سے فرعونِ وقت نام تِرا
اور اس پہ تھوک کے بولوں گا تیرے نام پہ تھو
مجھے قبول نہیں ہے نظامِ نو تیرا
ہزار بار کہوں گا تِرے نظام پہ تھو
وہ جس کو پی کے لہو میں کوئی اُبال نہ ہو
اُٹھا کے پھینک دو ایسے ہر ایک جام پہ تھو
جنابِ شیخ! اگر اب بھی آپ چُپ بیٹھے
تو خلق چیخ کے بولے گی احترام پہ تھو
مِرے لہو کے چراغوں سے جو نہ روشن ہو
تو ایسی شام پہ لعنت، تو ایسی شام پہ تھو
صبا یہ وقت نہیں ہے کہ بات حُسن کی ہو
لہو نہ گرم ہو جس سے ہر اس کلام پہ تھو
کامران غنی صبا
No comments:
Post a Comment