Friday, 17 December 2021

میرے پیار کی خوشبو میری بیٹی جو میرا دوسرا جنم ہے

 خوشبو


میں کرب میں مبتلا تھی

زندگی کی اذیتوں سے دو چار

زندگی کے فاصلے

اور موت کے قریب

میں اپنی رگوں کی قیدی

اپنے دکھوں کے حصار میں تھی

زندگی سے دور ہوتی رہی تھی

کہ

میرے جسم میں ایک تناؤ ہوا

اور، دیکھتے ہی دیکھتے 

وہ میرے جسم کا ایک حصہ بن گیا

میری پہچان

میرے پیار کی تخلیق

میرے خون کا وجود

مجھ میں تحلیل ہو گیا

میں زندہ ہوں، میں نکھر گئی

اور وہ، میری زندگی میں بکھر گئی

میرے پیار کی خوشبو میری بیٹی

جو میرا دوسرا جنم ہے


غزل جعفری

No comments:

Post a Comment