Sunday, 13 February 2022

کبھی تلاش نہ ضائع نہ رائیگاں ہو گی

 کبھی تلاش نہ ضائع نہ رائیگاں ہو گی

اگر ہوئی بھی تو از راہ امتحاں ہو گی

اگر ممانعت سیر گلستاں ہو گی

تو پھر بہار ہمیں روکش خزاں ہو گی

اصول یہ تو نہیں ہے کہ نامراد رہیں

فضا کبھی نہ کبھی ہم پہ مہرباں ہو گی

جہان درد میں انسانیت کے ناطے سے

کوئی بیان کرے میری داستاں ہو گی

مے نشاط و طرب جس کا ہم سے وعدہ تھا

جبھی ہوئی نہ فراہم تو اب کہاں ہو گی

بیان غم تو بہت سہل ہے پہ لذت غم

سوائے عجز بیاں کس طرح بیاں ہو گی

اگر غلط ہے جو کچھ اس نے مجھ سے آ کے کہا

تو یہ جسارت تحریف رازداں ہو گی

پتہ چلا کہ بصارت فریب ہیں جلوے

میں اس خیال میں تھا عقل پاسباں ہو گی

وہاں وہاں غم حالات روشنی دیں گے

مری غزل کی رسائی جہاں جہاں ہو گی

پیو پیو کہ صبوحی سے فاصلہ نہ رہے

نمود صبح کی تقریب میں اذاں ہو گی

نشیمنوں کی مخالف نہ تھی بہار چمن

مگر شرارت ایمائے باغباں ہو گی

تو کیا کثافت عریانی غزل اے شاد

ادب کی خاک اڑانے سے کچھ عیاں ہو گی


شاد عارفی

No comments:

Post a Comment