Friday, 11 February 2022

پتھر سے بت تراش کے بت کو خدا کیا

 پتھر سے بت تراش کے بت کو خدا کیا

پھر اس سے میں نے سنگدلی کا گلہ کیا

وہ دیکھتا رہا مجھے شک کی نگاہ سے

میں با وفا تھا اس نے مجھے بے وفا کیا

اس کی نظر سے زیست میں آئے سب انقلاب

اچھا کیا مجھے کبھی اس نے برا کیا

آیا تو ایک پل بھی نہ ٹھہرا وہ میرے پاس

گھر میں نے جس کے واسطے آراستہ کیا

پھر بھی گناہگار میں ٹھہروں تو کیا کروں

اس نے مِرے نصیب میں جو لکھ دیا کیا

وعدہ خلافی مجھ سے اگر تم نے کی تو کیا

تم نے کسی کے ساتھ تو وعدہ وفا کیا

میرے عدو نے قرض دیا تھا کبھی مجھے

واپس اسی کے سکے میں میں نے ادا کیا

آساں نہیں تھا اتنا بھی ترکِ تعلقات

مشکل سے میں نے چھوڑنے کا فیصلہ کیا

وہ بولتا تھا اور ہی کوئی زباں نعیم

میں نے لگا کے سال کئی ترجمہ کیا


نعیم چشتی

No comments:

Post a Comment