پتھر سے بت تراش کے بت کو خدا کیا
پھر اس سے میں نے سنگدلی کا گلہ کیا
وہ دیکھتا رہا مجھے شک کی نگاہ سے
میں با وفا تھا اس نے مجھے بے وفا کیا
اس کی نظر سے زیست میں آئے سب انقلاب
اچھا کیا مجھے کبھی اس نے برا کیا
آیا تو ایک پل بھی نہ ٹھہرا وہ میرے پاس
گھر میں نے جس کے واسطے آراستہ کیا
پھر بھی گناہگار میں ٹھہروں تو کیا کروں
اس نے مِرے نصیب میں جو لکھ دیا کیا
وعدہ خلافی مجھ سے اگر تم نے کی تو کیا
تم نے کسی کے ساتھ تو وعدہ وفا کیا
میرے عدو نے قرض دیا تھا کبھی مجھے
واپس اسی کے سکے میں میں نے ادا کیا
آساں نہیں تھا اتنا بھی ترکِ تعلقات
مشکل سے میں نے چھوڑنے کا فیصلہ کیا
وہ بولتا تھا اور ہی کوئی زباں نعیم
میں نے لگا کے سال کئی ترجمہ کیا
نعیم چشتی
No comments:
Post a Comment