کچھ دیر تجھ سے مل کے اُڑی ہوں ہواؤں میں
اچھی خطا یہی ہے مِری سب خطاؤں میں
اپنی مثال آپ ہے وہ کائنات میں
جو پیار ہم نے دیکھا ہے بچوں کی ماؤں میں
اس نے اٹھا لیا تھا مجھے کتنے پیار سے
اک کانٹا چبھ گیا تھا کبھی میرے پاؤں میں
میں جس کو چاہتی تھی مجھے مل نہیں سکا
سب سے حسین لڑکی تھی میں پورے گاؤں میں
یہ اور بات مجھ کو خدا نے بچا لیا
میرا سفینہ گِھر گیا تھا ناخداؤں میں
اک چاند نے گِرا دیا نظروں سے جب مجھے
پھر اس کے بعد لٹکی رہی میں خلاؤں میں
عفراء سحر میں کیسے اسے رہ میں چھوڑ دوں
جو میرے ساتھ ساتھ رہا دھوپ چھاؤں میں
عفراء بتول سحر
No comments:
Post a Comment