Friday, 18 February 2022

ملے بھی دوست تو اس طرز بے دلی سے ملے

 ملے بھی دوست تو اس طرز بے دلی سے ملے

کہ جیسے اجنبی کوئی اک اجنبی سے ملے

قدم قدم پہ خلوصِ وفا کا ذکر کیا

عدو ملے بھی تو کس حسن‌ سادگی سے ملے

ستم کرو بھی تو انداز منصفی سے کرو

کوئی سلیقہ تو عنوان دوستی سے ملے

تری تلاش میں نکلے تھے تیرے دیوانے

ہر ایک موڑ پہ خود اپنی زندگی سے ملے

وہ لوگ اپنی ہی زنجیر پا کے قیدی ہیں

جنہیں نشان سفر بھی تری گلی سے ملے

چلو کہ ترک تعلق کی بات ختم ہوئی

نہ تم خوشی سے ملے ہو نہ ہم خوشی سے ملے


غلام جیلانی اصغر

No comments:

Post a Comment