Saturday, 12 February 2022

ٹوٹی پھوٹی خواہش

 ٹوٹی پھوٹی خواہش


ہونٹ کڑوے ہیں، کھدے ہیں جا بجا کھارے کنویں

پپڑیاں پیاسی زمیں پر، خشک دریا، زرد گھاس

ہر نئے نقشے کو منظر کا وہی روکھا جواب

تہ بہ تہ جھلسے ہوئے رنگوں سے درماندہ حواس

ذہن میں یادوں کی جھاگ اور ریزہ ریزہ شک ہزار

ریت میں ابرق کی پتھرائی چمک آنکھوں پہ بار

کھوٹ، کالی آندھیوں اور لُو کی یہ خائن زمیں

حرص کا اک پیچ جو دل سے نکلتا ہی نہیں

ہے عبث اندھی مشینوں کی کد و کاوش یہاں

ثبت ہے ہر شے اور ہر نقشے پہ عصرِ رائیگاں


سلیم الرحمٰن

No comments:

Post a Comment