گال پر چٹکیاں کاٹتے
ستر میں چھپی ممنوعات کو چھیڑ کر
بھیک مانگتے ہوئے ہیجڑے
صرف دس روپے میں جسم کے اندر
بڑھتی ہوئی خون کی رفتار کو کم کر رہے ہیں
ایک شریف زادے نے دیکھ لیے جانے پر
ہڑبڑا کے پہلو بدلا ہے
بدن کی نمائش کرتی کوئی معزز عورت
اب تسکین نہیں دیتی
برقعہ پوش کافی ہیں
طوائفوں نے بلاتکاریوں کے ڈر سے
گھر سے باہر نکلنا بند کر دیا ہے
پارک میں کونے کی بینچ پر بیٹھا جوڑا
ایک دوسرے کے جسم پر ہاتھ پھیر کر
اپنی محبت کی تقدیس پر قسمیں دے رہا ہے
ایک بھکارن کھلکھلاتی ہوئی دکان سے نکلی ہے
آج کے دن اسے راشن کی کمی نہیں ہو گی
میں روح پر جمی غلاظت کو
رگڑ رگڑ کر دھوتے ہوئے سوچتا ہوں
تم خدا والے کتنے خوش نصیب ہو
وہ تمہیں روز پاک کر دیتا ہے
راشد ملک
No comments:
Post a Comment