Saturday, 12 February 2022

خدا تمہیں روز پاک کر دیتا ہے

 گال پر چٹکیاں کاٹتے

ستر میں چھپی ممنوعات کو چھیڑ کر

بھیک مانگتے ہوئے ہیجڑے

صرف دس روپے میں جسم کے اندر

بڑھتی ہوئی خون کی رفتار کو کم کر رہے ہیں

ایک شریف زادے نے دیکھ لیے جانے پر

ہڑبڑا کے پہلو بدلا ہے

بدن کی نمائش کرتی کوئی معزز عورت

اب تسکین نہیں دیتی

برقعہ پوش کافی ہیں

طوائفوں نے بلاتکاریوں کے ڈر سے

گھر سے باہر نکلنا بند کر دیا ہے

پارک میں کونے کی بینچ پر بیٹھا جوڑا

ایک دوسرے کے جسم پر ہاتھ پھیر کر

اپنی محبت کی تقدیس پر قسمیں دے رہا ہے

ایک بھکارن کھلکھلاتی ہوئی دکان سے نکلی ہے

آج کے دن اسے راشن کی کمی نہیں ہو گی

میں روح پر جمی غلاظت کو

رگڑ رگڑ کر دھوتے ہوئے سوچتا ہوں

تم خدا والے کتنے خوش نصیب ہو

وہ تمہیں روز پاک کر دیتا ہے


راشد ملک

No comments:

Post a Comment