غلط فہمی کسی کی دور کرتا رہ گیا ہوں
کوئی پیغام ہوں میں اور لکھا رہ گیا ہوں
بہت تکلیف دیتا ہے تِرا خاموش رہنا
مسلسل بولنے سے میں اکیلا رہ گیا ہوں
کوئی دیکھے بنا گزرا ہے میرے سامنے سے
کسی کا ہاتھ ہوں میں اور پھیلا رہ گیا ہوں
بہت آگے نکلنے کی سزا ہونے سے پہلے
بہت پیچھے میں دانستہ دوبارہ رہ گیا ہوں
اٹھا کر اپنا ساماں میہماں جانے لگا ہے
بہت ہی زور سے آواز دیتا رہ گیا ہوں
مجھے باہر بلایا سرد موسم میں کسی نے
میں اپنی شاعری کے ساتھ بیٹھا رہ گیا ہوں
تِری مرضی ہے جیسا بھی سلوک اب مجھ سے کر لے
نشاں اک پاس تیرے میں کسی کا رہ گیا ہوں
تِرے آنے سے میں تعمیر ہونے لگ گیا تھا
تِرے جاتے ہی شاہد صرف ملبہ رہ گیا ہوں
شاہد اشرف
No comments:
Post a Comment