Saturday, 12 February 2022

در بدر بھٹکنے کا انتقام سوچیں گے

 در بدر بھٹکنے کا انتقام سوچیں گے

ہم بھی گھر میں ٹھہریں گے آج شام سوچیں گے

زندگی بھی عقدہ ہے اور دقیق ہے ساقی

زندگی کے عقدے پر پی کے جام سوچیں گے

لفظ الوداع مدھم ہو ذرا سماعت میں

زندگی بِتانے کا اہتمام سوچیں گے

ساتھ تُو اگر ہوتا، کیسے طے سفر ہوتا؟

ایک گام چل دیں گے ایک گام سوچیں گے

دردِ دل کا باعث تُو، تُو ہی راحتِ دل ہے

درد جب سوا ہو گا تیرا نام سوچیں گے

کیوں لکھا تھا رازق نے اُن کا نام دانوں پر

چن کے پنچھی دانوں کو زیرِ دام سوچیں گے

پھول، چاند، ابر، اور میں آج مل کے بیٹھیں گے

اور تیرے آنے کا اہتمام سوچیں گے


نعیم قیصر

No comments:

Post a Comment