عارفانہ کلام نعتیہ کلام
خواب میں پھر سے کھجوروں کے درختوں کا اشارہ آنا
چاہتی پھر ہوں تہِ دل سے مدینہ میں دوبارہ آنا
چاہتی ہوں کہ مدینہ میں بلائیں مجھے آقاؐ پھر سے
مانگتا پھر ہے بلندی پہ مقدر کا ستارہ آنا
ہاتھ میں لے کے کھڑی ہوں میں مدینہ کے سفر کا مژدہ
پھر سے صحرائے عرب نے مجھے شاید ہے پکارا آنا
انؐ سے نسبت کی گواہی ہے یہی انؐ کی غلامی کی سند
انؐ کی چوکھٹ پہ بِنا ازن و وسیلہ کے ہمارا آنا
کیوں نہ ہو اپنے مقدر پہ مجھے رشک سراسر اب بھی
مجھ خطا کار کا ٹھہرا ہے انہیں در پہ گوارا آنا
معجزہ یہ ہے اسی اسم محمدﷺ کا یقینا ایمان
نام لیتے ہی مِرے سامنے موجوں میں کنارا آنا
ایمان قیصرانی
No comments:
Post a Comment