Saturday, 12 February 2022

چاہتی پھر ہوں تہ دل سے مدینہ میں دوبارہ آنا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


خواب میں پھر سے کھجوروں کے درختوں کا اشارہ آنا

چاہتی پھر ہوں تہِ دل سے مدینہ میں دوبارہ آنا

چاہتی ہوں کہ مدینہ میں بلائیں مجھے آقاؐ پھر سے

مانگتا پھر ہے بلندی پہ مقدر کا ستارہ آنا

ہاتھ میں لے کے کھڑی ہوں میں مدینہ کے سفر کا مژدہ

پھر سے صحرائے عرب نے مجھے شاید ہے پکارا آنا

انؐ سے نسبت کی گواہی ہے یہی انؐ کی غلامی کی سند

انؐ کی چوکھٹ پہ بِنا ازن و وسیلہ کے ہمارا آنا

کیوں نہ ہو اپنے مقدر پہ مجھے رشک سراسر اب بھی

مجھ خطا کار کا ٹھہرا ہے انہیں در پہ گوارا آنا

معجزہ یہ ہے اسی اسم محمدﷺ کا یقینا ایمان

نام لیتے ہی مِرے سامنے موجوں میں کنارا آنا


ایمان قیصرانی

No comments:

Post a Comment