Sunday, 13 February 2022

کب التجا ہے کوئی سہولت کے واسطے

 کب التجا ہے کوئی سہولت کے واسطے

پر اس قدر نہ تڑپا ضرورت کے واسطے

اس دور میں بشر سے وفا کی امید کب

پتھر تراش لیں کوئی چاہت کے واسطے

مسجد کا در تو بند ہے واعظ! چل آج پھر

چلتے ہیں مے کدے کو عبادت کے واسطے

ڈھلنے لگی ہے عمر تو محشر کے خوف ہیں

کیا کیا نہ گل کھلائے تھے راحت کے واسطے

الزام دے رہا ہے وہی کفر کا ہمیں

رُسوا ہوئے ہیں شہر میں جس بت کے واسطے

کیوں ہر طرف ہی نفرتوں کا زور ہے ندیم

اُس نے تو جگ بسایا تھا الفت کے واسطے


ندیم اعجاز

No comments:

Post a Comment