کب التجا ہے کوئی سہولت کے واسطے
پر اس قدر نہ تڑپا ضرورت کے واسطے
اس دور میں بشر سے وفا کی امید کب
پتھر تراش لیں کوئی چاہت کے واسطے
مسجد کا در تو بند ہے واعظ! چل آج پھر
چلتے ہیں مے کدے کو عبادت کے واسطے
ڈھلنے لگی ہے عمر تو محشر کے خوف ہیں
کیا کیا نہ گل کھلائے تھے راحت کے واسطے
الزام دے رہا ہے وہی کفر کا ہمیں
رُسوا ہوئے ہیں شہر میں جس بت کے واسطے
کیوں ہر طرف ہی نفرتوں کا زور ہے ندیم
اُس نے تو جگ بسایا تھا الفت کے واسطے
ندیم اعجاز
No comments:
Post a Comment