Sunday, 13 February 2022

گھر سے نکل کے شہر کے رستے کو گھورنا

 گھر سے نکل کے شہر کے رستے کو گھورنا

پھر غم زدہ سی نظم کے مصرعے کو گھورنا

دو مشغلے عزیز ہیں اس ہجر زاد کو

بستر پہ لیٹنا، کبھی پنکھے کو گھورنا

ہرگز نہیں ہوں میں نہیں ہوں کوئی اور ہے

پاگل سا عکس دیکھ کے شیشے کو گھورنا

دیوانگی کے خوف سے پھر چیخ چیخ کر

کمرے میں جھانکتے ہوئے بچے کو گھورنا

کس حال جی رہا ہوں میں چاہو جو جاننا

تو دھوپ میں کھڑے ہوئے پودے کو گھورنا

راہبؔ دکھوں کی گرد میں لپٹے ستم ظریف

اشکوں کا بوجھ جھیلتے تکیے کو گھورنا


عمران راہب

No comments:

Post a Comment