Sunday, 13 February 2022

شوق جب جرأت اظہار سے ڈر جائے گا

 شوق جب جرأت اظہار سے ڈر جائے گا

لفظ خود اپنا گلا گھونٹ کے مر جائے گا

تیز رفتار ہواؤں کو یہ احساس کہاں

شاخ سے ٹوٹے گا پتا تو کدھر جائے گا

یہ چمکتا ہوا سورج بھی مِری شام کے بعد

رات کے گہرے سمندر میں اتر جائے گا

صرف اک گھر کو ڈبونا ہی نہیں کام اس کا

اب یہ سیلاب کسی اور کے گھر جائے گا

ہیں ہر اک سمت یہی لوگ یہی دنیا ہے

ان سے بچ کے کوئی جائے تو کدھر جائے گا

کام اتنا تو کرے گا یہ ابلتا ہوا خون

سارے منظر میں مِرا رنگ تو بھر جائے گا


منظور ہاشمی

No comments:

Post a Comment