Sunday, 13 February 2022

گھونسلہ چھوڑ گیا جب سے پرندہ اپنا

 گھونسلہ چھوڑ گیا جب سے پرندہ اپنا

پیڑ کو سایہ بھی اچھا نہیں لگتا اپنا

ہم کہ اک عمر چلے ایک ہی رستے پہ مگر

آخرِ کار لیا راستہ اپنا اپنا

جس قدر لوگ جتاتے ہیں حقوق اوروں پر

اس قدر بھولتے جاتے ہیں فریضہ اپنا

اب کہاں کھوج لگائیں کہ کہاں سے آیا

تیر جس نے بھی چلایا، کوئی ہو گا اپنا

ایسے اب ہوں میں تِرا سارے کا سارا، جیسے

پہلے ہوتا تھا کبھی سارے کا سارا اپنا

میں نے تو اپنے ستارے میں تجھے دیکھ لیا

غور سے تُو بھی ذرا دیکھ ستارہ اپنا

دیکھیے اب کے محبت ہمیں لے جائے کہاں

دشت ہی اپنا ہے اس بار نہ دریا اپنا


نعیم عباس ساجد

No comments:

Post a Comment