Sunday, 13 February 2022

اس دور کی پلکوں پہ ہیں آنسو کی طرح ہم

 اس دور کی پلکوں پہ ہیں آنسو کی طرح ہم

کچھ دیر میں اڑ جائیں گے خوشبو کی طرح ہم

بڑھ کر کسی دامن نے بھی ہم کو نہ سنبھالا

آنکھوں سے ٹپکتے رہے آنسو کی طرح ہم

کس پھول سے بچھڑے ہیں کہ پھرتے ہیں پریشاں

جنگل میں بھٹکتی ہوئی خوشبو کی طرح ہم

اب دن کے اجالے میں ہمیں کون پکارے

چمکے تھے کبھی رات میں جگنو کی طرح ہم

ہر موڑ پہ آئیں ترے دامن کی ہوائیں

ہر چھاؤں کو سمجھے ترے گیسو کی طرح ہم

قیصر ہمیں دنیا نے سمجھ کر بھی نہ سمجھا

الجھے ہی رہے کاکل اردو کی طرح ہم


قیصر الجعفری

No comments:

Post a Comment