Sunday, 13 February 2022

چبھن نہیں ہے مگر اضطراب کافی ہے

چبھن نہیں ہے مگر اضطراب کافی ہے 

ہماری آنکھ کو تیرا ہی خواب کافی ہے 

وہ چنتا رہتا ہے کلیاں نہ جانے کیوں دن بھر 

مِرے چمن کو فقط اک گلاب کافی ہے 

میں اس کی یادوں کو اوڑھوں کہ پھینک دوں باہر 

خیال یہ ہے کہ میرا جواب کافی ہے 

کبھی تو آنکھ تمہاری بھی زیر آب آئے 

مجھے تو ریت کا سراب کافی ہے


رخسانہ نور

No comments:

Post a Comment