بہا لے جائے گی دنیا کو طغیانی ہماری
یہ دریا جانتا ہے اشک افشانی ہماری
یہاں سب ہی نظر انداز کرتے جا رہے ہیں
مصیبت ہے ہمیں اتنی فراوانی ہماری
یہ کیسے موسموں کی زد میں ہم آئے ہوئے ہیں
سُلگتا دن یہاں اور شب ہے برفانی ہماری
خزانہ ڈھونڈنے والے ہی آ جائیں خدا را
کھنڈر سے کم نہیں ہے اب ویرانی ہماری
سبھی اسرار ہم پر کُھل چکے دنیا کے، لیکن
ابھی تک ہے ہمارے ساتھ حیرانی ہماری
محبت دن بہ دن متروک ہوتی جا رہی ہے
نہیں اس کے سوا کوئی پریشانی ہماری
قمر رضا شہزاد
No comments:
Post a Comment