Sunday, 13 February 2022

بہا لے جائے گی دنیا کو طغیانی ہماری

 بہا لے جائے گی دنیا کو طغیانی ہماری

یہ دریا جانتا ہے اشک افشانی ہماری

یہاں سب ہی نظر انداز کرتے جا رہے ہیں

مصیبت ہے ہمیں اتنی فراوانی ہماری

یہ کیسے موسموں کی زد میں ہم آئے ہوئے ہیں

سُلگتا دن یہاں اور شب ہے برفانی ہماری

خزانہ ڈھونڈنے والے ہی آ جائیں خدا را

کھنڈر سے کم نہیں ہے اب ویرانی ہماری

سبھی اسرار ہم پر کُھل چکے دنیا کے، لیکن

ابھی تک ہے ہمارے ساتھ حیرانی ہماری

محبت دن بہ دن متروک ہوتی جا رہی ہے

نہیں اس کے سوا کوئی پریشانی ہماری


قمر رضا شہزاد

No comments:

Post a Comment