Saturday, 19 February 2022

جو روشن ہے وہی دکھتا نہیں ہے

 جو روشن ہے وہی دِکھتا نہیں ہے

ہمارے ساتھ کیا ایسا نہیں ہے

جو دنیا کے لیے راہِ ہدایت

اُسے اب تک کوئی سمجھا نہیں ہے

مسلسل تیرگی بڑھنے لگی ہے

کہیں بھی راستہ ملتا نہیں ہے

نہ جانے کیوں تعجب ہو رہا ہے

وہ جیسا تھا کبھی ویسا نہیں ہے

ہمارے درمیاں رہ کر بھی انجم

ہمارے درمیاں رہتا نہیں ہے


غنی الرحمٰن انجم

No comments:

Post a Comment