Saturday, 19 February 2022

میں سنا گیا کسی اور سے میں کہا گیا کہیں اور کا

 میں سنا گیا کسی اور سے، میں کہا گیا کہیں اور کا

تیری زہر سے بھری گفتگو، تِرا فلسفہ کہیں اور کا

اسی گھر میں ہم ہوئے ہیں جمع یہیں دفن ہم یہیں تربتیں

جو ثبوت ہم سے ہے مانگتا وہ ہے بے وفا کہیں اور کا

مِرا حوصلہ مِری راہ میں، مِری منزلیں ہیں نگاہ میں

تِرے راستے میں ہیں ظلمتیں، تِرا راستہ کہیں اور کا

تِرے پاس شہرت و نام ہے تِرے ہاتھ نظم و نظام ہے

تُو ہے درد و غم سے نا آشنا تُو ہے ناخدا کہیں اور کا

ذرا سن تو میری اے راہبر تُو ہے کارواں سے ہی بے خبر

تجھے کارواں سے غرض نہیں تُو ہے رہنما کہیں اور کا

مجھے پیار اپنی زمیں سے ہے مِرا مسئلہ بھی یہیں کا ہے

مِرے مسئلہ میں خموش تو کہ یہ مسئلہ کہیں اور کا


راشد عالم

No comments:

Post a Comment