تم ڈھونڈتے ہو کیا مِرے زرد جسم میں
پوشیدہ آج کل ہیں کئی درد جسم میں
اک زخم ہی نہیں تِرا غم بھی ہے ساتھ ساتھ
کس کو میں جانوں، کون ہے ہمدرد جسم میں
مدت ہوئی ہے اس سے بچھڑے ہوئے مگر
یادوں کی اڑ رہی ہے ابھی گرد جسم میں
اک حادثہ وہ وقت کا جب یاد آئے ہے
گرمی سی دوڑ جائے ہے اک سرد جسم میں
داؤد! انقلاب کا جذبہ تو یہ نہیں
کروٹ بدل رہا ہے کوئی درد جسم میں
داؤد اسلوبی
No comments:
Post a Comment