Saturday, 12 February 2022

تمہیں جو اچھی لگتی ہیں مری ہنستی ہوئی آنکھیں

 تمہیں جو اچھی لگتی ہیں

مری ہنستی ہوئی آنکھیں

تمہیں میں خوش نظر آؤں

تمہاری یہ تمنا ہے

وفا کی چاشنی سے تم

کبھی بھر دو مِرا دامن

تمہاری آرزو ہے کہ مِری خاطر

ستارے توڑ لاؤ تم

مگر معلوم ہے تم کو

مجھے چاہت کی خوشبو کے

فقط چند پھول کافی ہیں

محبت کےنصابوں کے

فقط گجرے گلابوں کے


محمود اظہر

No comments:

Post a Comment