تمہیں جو اچھی لگتی ہیں
مری ہنستی ہوئی آنکھیں
تمہیں میں خوش نظر آؤں
تمہاری یہ تمنا ہے
وفا کی چاشنی سے تم
کبھی بھر دو مِرا دامن
تمہاری آرزو ہے کہ مِری خاطر
ستارے توڑ لاؤ تم
مگر معلوم ہے تم کو
مجھے چاہت کی خوشبو کے
فقط چند پھول کافی ہیں
محبت کےنصابوں کے
فقط گجرے گلابوں کے
محمود اظہر
No comments:
Post a Comment