گلوبل ویلج
دنیا میری ہتھیلی سے چھوٹی تھی
میں نے اسے زُوم کیا قریب سے دیکھنے کے لیے
تو فاصلوں کا جال پھیلتا گیا
پانچ سو ستر کلومیٹر دور ایک چرواہا
بھیڑوں کے گَلے سے بے خبر
اس لڑکی کو قید کرنے کا سوچ رہا ہے
جو پہاڑوں کو اپنا گیت سُنا رہی ہے
ایک دریا پیاسوں پر رُکاوٹ بنا ہوا ہے
دو کنارے پانی کے ساتھ ساتھ بہتے جا رہے ہیں
کوئی انہیں ریسکیو کرنے والا نہیں مل رہا
ایک دُکھ نے میری آنکھوں سے وہ منظر بہا دئیے
جو میں نے کبھی نہیں دیکھے
میں نے زُوم آؤٹ کیا
دنیا کو دوبارہ ہتھیلی پر رکھا
اس میں تمہیں فرض کیا
ہتھیلی کو چُوما
اور قہقہہ لگا کر آنسو پونچھے
خوش بخت بانو
No comments:
Post a Comment